Earache is a painful problem, the recipe we are sharing today is very useful and you can prepare it at home.
گھر بیٹھے جلد کو خوبصورت اور حسین بنانا چاہتی ہیں تو شہد سے بنے یہ فیس ماسک لگائیں اور پائیں چمکدار چہرہ
صاف ستھری بے داغ جلد ہر کسی کی خواہش اور ہر کسی کو بھاتی ہے، اگر آپ خوبصورتی بڑھانے کے لیے مہنگی کیمیکل والی مصوناعات کے استعمال سے اُکتا چکے ہیں اور اصل معنوں میں صاف شفاف جلد چاہتے ہیں تو گھر میں شہد سے بنے یہ 5 ماسک ضرور آزمائیں ۔
ماہرین جڑی بوٹیوں کے مطابق شہد جلد اور آنکھوں کی بیماریوں کے لیے مفید قدرتی جز ہے، شہد میں پروٹین ، امینو ایسڈ وٹامنز، انزائمز ، منرلز اور بوسٹنگ اینٹی مائیکروبیئل خصوصیات پائے جانے کے سبب یہ جلد پر استعمال کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتا ہے ، شہد کو اسکن کا سپر فوڈ بھی کہا جا سکتا ہے ۔
شہد کا جلد پر استعمال کرنے کے نتیجے میں ایکنی، کیل مہاسوں کے داغ دھبے صاف ہوتے ہیں، شہد براہ راست جلد پر لگانے سے اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کے سبب جلد نرم ملائم اور صاف ہونے لگتی ہے اور جلد پر موجود مردہ خلیوں کا بھی صفایا ہوتا ہے۔
شہد جلدکو ہائیڈریٹ کرتا ہے ، دانوں کے نتیجے میں بننے والوں زخموں کو جلدی بھرنے میں مدد دیتا ہے، جلد میں خون کی گردش کو تیز کر کے قدرتی چمک کا سبب بنتا ہے ۔
اگر آپ بھی صاف شفاف جلد چاہتے ہیں تو شہد سے بنے مندجہ ذیل فیس ماسک کو لازمی آزمائیں ۔
ایکنی ، کیل مہاسوں کے خاتمے کے لیے
اگر اپ کو ضدی اور موٹی ایکنی کی شکایت ہے تو اس ماسک کا لازمی استعمال کریں، ایک چائے کا چمچ لیموں کا رس، ایک چمچ شہد ، ایک چائے کا چمچ میٹھا سوڈا ( بیکنگ سوڈا) لے لیں اب ان تینوں اجزا کو ایک اچھی طرح ملا کر یک جان کر لیں ۔
اس فیس ماسک کو اپنے چہرے پر 15 منٹ لگائیں اور نیم گرم پانی سے چہرہ دھو لیں ۔ یہ ایکنی کے لیے بہترین ماسک ہے ، پہلے ماسک ہی سےبہترین نتائج حاصل ہوں گے ۔
اس ماسک کو کم سے کم ہفتے میں دو بار ضرور لگائیں ۔
حساس جلد کے لیے شہد کا استعمال
حساس جلد کو موسم کی سختیوں اور سو رج کی شعاؤں کے نتیجے میں جھلسنے والی جلد کے علاج کے لیے ایک چائے کا چمچ سبز چائے ، ایک چائے کا چمچ شہد اور ایک چائے کا چمچ بادام کا تیل لے لیں ، ان تینوں اجزا کو اچھی طرح مکس کر لیں۔
اب اس ماسک کو چہرے پر 15 منٹ لگائیں اور نیم گرم پانی سے دھو لیں ۔
اس ماسک سے متاثر جلد صحت مند ہو جائے گی اور رنگ بھی صاف ہوگا ۔
جلد کے ایک رنگ ( even skin tone ) کے لیے شہد کا استعمال
گرمیوں میں دھوپ میں نکلنے سے چہرے ہاتھ ، پاؤں ، گردن اور بازؤں کی جلد کے رنگ میں فرق آ جاتا ہے جو کہ نہایت بد نما نظر آتا ہے ایسی جلد کے لیے ایک چائے کا چمچ لیموں کا رس، ایک چائے کا چمچ شہد، ایک چائے کا چمچ دہی اور چمچ کا چوتھائی حصہ ہلدی ملا لیں ، اب اس فیس پیک کو یک جان بنا لیں اور اپنے چہرے ، گردن ، ہاتھ ، پاؤں بازؤں پر 20 منٹ کے لیے لگائیں اور بعد میں نیم گرم پانی سے اچھی طرح دھو لیں ۔
اس فیس ماسک کا استعمال روزانہ بھی کیا جا سکتا ہے ، کم از کم ہفتے میں 3 سے 4 بار لازمی کریں ۔
خشک اور کھردری جلد کے لیے شہد کا استعمال
ایک چائے کا چمچ پسی ہوئی دار چینی میں ایک چائے کا چمچ شہد ملا لیں ، اب انہیں اچھی طرح سے مکس کر لیں ، اس فیس ماسک کو چہرے پر 10 منٹ لگائیں اور بعد میں نیم گرم پانی سے دھو لیں ۔
اس فیس ماسک سے جلد نرم ، ملائم اور چمک دار ہو جائے گی ۔
جلد سے مردہ خلیوں ( ڈیڈ اسکن ) کے خاتمے کے لیے
ایک چائے کے چمچ میں پسا ہوا دلیہ ملا لیں اور اچھی طرح سے یک جان بنا لیں اب اس فیس ماسک کو 15 منٹ کے لیے اپنے چہرے پر لگائیں ، یہ فیس ماسک جلد سے اضافی تیل بننے کے عمل کمزور کرنے سمیت جلد سے مردہ خلیوں کا خاتمہ بھی کرے گا۔
اس فیس ماسک میں دلیے کی جگہ چاولوں کا آٹا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ، چاولوں کے آٹے میں ہم وزن شہد ملائیں اور اب اس قدرتی اور سستے ترین اسکرب کو ایک ہفتے کے لیے فریج میں محفوظ کر لیں ، ہر دوسرے دن اس فیس ماکس کو لگائیں اور ہلے ہاتھوں سے مساج کرتے ہوئے اتار لیں اور چہرہ دھو لیں۔
اس فیس ماسک سے رنگت صاف ہوگی، جلد بے حد نرم اور ملائم ہو جائے گی ، مردہ خلیوں کا بھی خاتمہ ہوگا، چہرہ توتازہ شاداب نظر آئے گا ۔
جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کی 5 علامات
انسانی مجموعی صحت میں وٹامن ڈی کا بہت اہم کردار ہے ، دھوپ سیکنا وٹامن ڈی حاصل کرنے کا سستا اور اہم ترین ذریعہ ہے ، دھوپ سیکنے کی صورت میں انسانی جسم میں قدرتی طور پر وٹامن ڈی کی افزائش ہوتی ہے جبکہ اس کی کمی سے بہت سی بیماریاں جنم لیتی ہیں ۔
طبی ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی حاصل کرنے کے لیے صبح 10 بجے سے پہلے اور شام 4 بجے کے بعد کی دھوپ میں 20 سے 25 منٹ کے لیے بیٹھنا چاہیے، اگر مصروف روٹین میں دھوپ سیکنا ناممکن ہو تو وٹامن ڈی کی کمی پوری کرنے کے لیے سپلیمنٹس بھی لیے جا سکتے ہیں، وٹامن ڈی کی افزائش کے لیے مثبت غذا کا استعمال بھی لازمی ہے ۔
وٹامن کی کمی کی وجوہات
طبی ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی کی وجوہات میں میں دھوپ نہ سیکنے سمیت غیر مناسب غذا کا استعمال بھی شامل ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کی اہم وجہ سورج کی شعاؤن سے دور رہنا ہے ۔
ماہرین کے مطابق جو افراد دن کے اوقات میں گھروں اور دفتروں میں مصروف اور دھوپ سے دور رہتے ہیں ان میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جانا عام سی بات ہے ۔
ماہرین کے مطابق سورج کو شعائیں وٹامن ڈی بننے کے عمل اور اسے محفوظ کرنے میں مدد دیتی ہیں اس لیے دھوپ سیکنا بہت اہم ہے ۔
وٹامن ڈی کی کمی سے صحت پر کیا منفی اثرات آ سکتے ہیں ؟
زخموں کا دیر سے بھرنا
طبی ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی سے زخم بھرنے کا عمل سُست ہو جاتا ہے ، اگر آپ ورزش کرنے کے عادی ہیں اور ورزش کرتے ہوئے تھوڑی ہی دیر میں تھک جاتے ہیں تو یہ بھی وٹامن ڈی کی کمی کی علامتوں میں سے ایک ہے ، وٹامن ڈی کی کمی کے سبب ورزش کے دوران تناؤ بڑھنے سے متاثر ہونے والے پٹھے تا دیر صحت مند نہیں ہو پاتے ہیں۔
کمزور ہڈیاں
غذا کا غیر مناسب ہونا اور دھوپ بھی نہیں سیکنے کے نتیجے میں وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے ہڈیاں بھی کمزور ہو جاتی ہیں ، طبی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اگر دھوپ سیکنے سے قاصر ہوں تو اپنی غذا میں وٹامن ڈی کا استعمال کریں یا پھر روزانہ اپنے معالج کی جانب سے تجویز کردہ سپلیمنٹس لیں۔
بالوں کا گرنا
اگر آپ کے بال عام روٹین سے زیادہ جھڑ رہے ہیں تو یہ وٹامن ڈی کی کمی کے سبب بھی ہو سکتا ہے ، ایک تحقیق کے مطابق خواتین اور مردوں میں بال جھڑنے کی ایک اہم وجہ وٹامن ڈی کی کمی بھی ہوتی ہے ، وٹامن ڈی کی کمی کے سبب بالوں کی جڑوں میں سیرم کی افزائش کاعمل رُک جاتا ہے اور بال جھڑنا شروع ہو جاتے ہیں ۔
سانس لینے میں دشواری
اگر آپ کو بغیر کسی بھاگ دوڑ کے بھی سانس پھولنے کی شکایت ہے تو یہ وٹامن ڈی کی کمی کے سبب بھی ہو سکتا ہے ، اپنے معالج سے رابطہ کریں اور وٹامن ڈی سے بھرپور غذاؤن کا استعمال کریں ، وٹامن ڈی کی کمی پوری ہونے میں وقت درکار ہوتا ہے ، اس لیے خود کو اس سے بچانے کے لیے روزانہ وٹامن ڈی کا استعمال لازمی کریں ۔
انفیکشن اور وائرل کے خدشات
وٹامن ڈی کی کمی سے انسان انفیکشن اور وائرل سے بچنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے اور موسمی اثرات سے جلد متاثر ہو جاتا ہے، اگر آپ اکثر اوقات بیمار رہتے ہیں تو یہ وٹامن ڈی کی کمی کے سبب بھی ہو سکتا ہے ۔
وٹامن ڈی کی کمی پوری کرنے کے لیے اپنی غذا میں روزانہ کی بنیاد پر انڈہ اور پنیر کا استعمال لازمی کریں۔
روزانہ 66 گرام سبزی اور پھل کھائیں اور ذیابیطس کو دور بھگائیں
اگر پھل اور سبزیوں کی بہت کم مقداربھی کھائی جائے تو اس سے بھی ذیابیطس کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔ یعنی روزانہ صرف 66 گرم پھل اور سبزی کھانے سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔یہ تحقیق کیمبرج یونیورسٹی نے کی ہے جبکہ اس سے قبل ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کہہ چکے ہیں کہ مکمل اناج کا استعمال بھی ذیابیطس سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ 66 گرام سبزی کا مطلب سبزیوں سے بھرے تین بڑے چمچے یا ایک سیب ہوتا ہے۔ کیمبرج کے سائنسدانوں نے اس کی تفصیلات برٹش میڈیکل جرنل میں شائع کی ہیں۔ اسی سے وابستہ ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مکمل اناج بھی ذیابیطس کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اگر مکمل اناج کا بسکٹ یا دلیہ ناشتے کے طور پر کھایا جائے تو اس سے ذیابیطس کا خطرہ 20 فیصد تک ٹل سکتا ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کے مطالعے میں سائنسدانوں نے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے 9,754 مریضوں کا موازنہ ایسے 13,662 افراد سے کیا جنہیں ذٰیابیطس نہ تھی۔ جبکہ خون میں وٹامن سی اور کیروٹینوئڈز کا جائزہ لیا گیا جو پودوں کی عام رنگت کی تشکیل کرتا ہے اور یہ پھلوں اور سبزیوں کو عام پایا جاتا ہے۔ خون میں ان کی موجودگی جسم میں پھلوں اور سبزیوں کو ثابت کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ تحقیق یورپی تحقیق برائے کینسر اور غذائی پروگرام کے تحت کی گئی ہے جس میں آٹھ یورپی ممالک شامل تھے۔ تحقیق سے دلچسپ بات سامنے آئی کہ اگر سبزیوں اور پھل کی مقدار بڑھائی جائے (یعنی 500 گرام روزانہ) تو ذیابیطس کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔دوسری جانب اگر آپ مکمل اناج، دلیے، اوٹ میل اور سیریئل وغیرہ کی مقدار اپنی غذا میں بڑھاتے ہیں تو عین اسی تناسب سے ذٰیابیطس آپ سے دور ہوتی جائے گی۔ اچھی بات یہ ہے مکمل اناج سے موٹاپا دور رہتا ہے اور موٹاپا خود ذیابیطس کا دوسرا نام ہی ہے۔ اس طرح ذیابیطس کا شکار ہونے کی شرح 19 سے 21 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔ماہرین اسی بنا پر براؤن بریڈ کھانے پر بھی زور دیتے ہیں۔ لیکن اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ غذائیں ذیابیطس کو روکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور ان کی معمولی مقدار پر بھی بڑے مثبت اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔
کیسٹر آئل کے فوائد، جلد پر ’اسٹریچ مارکس‘ ختم کرنے میں مفید
کاسٹر کا تیل بے شمار فوائد کا حامل، جلد پر تناؤ کے سبب بن جانے والے نشانات ’اسٹریچ مارکس‘ کو بھی ختم کرنے میں بھی نہایت مفید ثابت ہوتا ہے ۔
جلد پر تناؤ کی صورت میں بن جانے والے نشانات ’اسٹریچ مارکس‘ بے حد بد نما نظر آتے ہیں، وزن کم یا بڑھنے کی صورت میں، حمل کے دوران جلد شدید تناؤ کا شکار رہنے کے سبب خصوصاً نرم جلد والوں کے ساتھ یہ مسئلہ پیش آتا ہے، اس دوران جلد پر تا عمر تناؤ کے نشانات بن جاتے ہیں جن سے جان چھڑانا آسان کام نہیں ۔
عام طور پر جلد پر تناؤ کے نشانات بازؤں، ٹانگوں، پیٹ اور کندھوں پر بنتے ہیں ، انٹرنیشنل جرنل آف سائنس اینڈ ریسرچ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق کاسٹر آئل جلد کے کئی امراض کے علاج میں مفید ثابت ہوتا ہے ۔
طبی ماہرین کی جانب سے اسٹریچ مارکس ختم کرنے اور انہیں بننے سے روکنے کے لیے کاسٹر آئل تجویز کیا جاتا، اس کے استعمال کے چند فوائد منرجہ ذیل ہیں:
کاسٹر آئل جلد پر تناؤ کے نشانات ’اسٹریچ مارکس‘ بننے سے روکتا ہے
طبی ماہرین کے مطابق کاسٹر آئل میں اینٹی آکسیڈنٹ اجزا پائے جاتے ہیں اور اس کے استعمال سے جلد سے خشکی کا خاتمہ ہوتا ہے ، رات میں اگر اسے جسم کے متاثرہ حصوں پر لگا لیا جائے یا نشان بننے سے قبل اس کے استعمال کو عادت میں شامل کر لیا جائے تو جلد پر تناؤ کے نشانات بننے کا عمل رُک جاتا ہے۔
کاسٹر کا تیل جلد کو موسچرائز کر کے تناؤ کی شدت کم کرتا ہے اور نشانات کے بننے کے عمل کو بھی سست کرتا ہے۔
کاسٹر آئل جلد کے لیے ایک غذا کا کام کرتا ہے
ایک تحقیق کے مطابق کاسٹر آئل کا 90 فیصد حصہ مونوسیچوریٹڈ فیٹ پر مشتمل ہوتا ہے جسے ’ریسونولیک ایسڈ‘ بھی کہا جاتا ہے ، اس کے استعمال سے جلد کو کسی بھی اور موائسچرازر کے مقابلے میں زیادہ فوائد حاصل ہو تے ہیں ۔
زخموں ، کیل مہاسوں کے داغ دھبوں کا علاج کرتا ہے
کاسٹر آئل جلد کے نئے خلیوں کے بننے کے عمل کو تیز کرتا ہے اور زخم ، کیل مہاسوں اور ایکنی کے نتیجے میں بننے والے نشانات اور گہرے دھبوں کو جلد ٹھیک کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے ۔
طبی ماہرین کے مطابق کاسٹر آئل کے بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے اس کا استعمال صبح یا رات سونے سے پہلے کریں ، جہاں اسٹریچ مارکس بننے کا خدشہ ہو یا جلد پر تناؤ کے نشانات موجود ہوں وہاں یہ تیل لگائیں اور چند منٹوں کے لیے گول گول دائروں میں مساج کریں، چند گھنٹوں بعد تیل کو دھو لیں ۔
آم کی قلفی گھر میں بنانے کا آسان طریقہ
موسم گرما کے آتے ہی اگر ہمیں کسی چیز کا انتظار ہوتا ہے تو وہ ہیں آم۔ جس بھی میٹھے میں آم استعمال ہو اسکا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔
کورونا وائرس سے لاک ڈاؤن میں سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں موجود ہیں اور اگر ایسے میں کسی کوآم کی ٹھنڈی اور میٹھی قلفی کھانے کا دل کر رہا ہو تو آج ہم اس کے لیے ایک آسان سے ترکیب لے کر آئے ہیں۔اس آسان ترکیب کے ذریعے آپ بھی اپنے گھر میں آم کی قلفی بنا سکتے ہیں۔
آم کی قلفی بنانے کے لیے اجزاء
الائچی پاؤڈر
تازہ کریم
دودھ
کنڈینسڈ ملک
آم
چھلکا اتارنے کے بعد آم کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیجیے۔
آم کے ٹکڑے کاٹنے کے بعد اب اس بلینڈر میں میں دال کر اچھی طرح اس کا پیسٹ بنا لیں۔
آم کا پیسٹ بنانے کے بعد اس میں آدھے سے زیادہ ٹِن کنڈینسڈ ملک کا ڈال دیں اور اسے دوبارہ بلینڈ کر لیں۔
آم اور کنڈینسڈ ملک کے اس مکسچر میں اب آدھا پیکٹ فریش کریم کا ملا لیں۔
اب اس پورے مکسچر کو اچھی طرح چمچے سے مکس کر لیں۔
اب اس میں ایک کپ دودھ بھی شامل کرلیں اور اسے دوبارہ بلینڈ کرلیں۔
اب اس بلینڈ مکسچر میں حسب ذائقہ شکر اور الائچی پاؤڈر ملا لیں اور اسے قلفی کے سانچے یا کسی ائیر ٹائیڈ کنٹینر میں 6 سے 7 گھنٹے کے لیے رکھ دیں اور پھر خوب مزے لیکر کھائیں۔
























